April 22, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/nyctheblog.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

برطانیہ کے مختلف طبقوں نے حکومت کے ذریعے متعارف کرائے جا رہے انسداد انتہا پسندی منصوبے کی آڑ میں مسلم معاشرہ کو نشانہ بنانے کے خدشہ کا اظہار کیا ہے۔ پہلے ہی اسلامو فوبیا سے نبرد آزما مسلم معاشرہ مزید متاثر ہوگا۔ مختلف حلقوں کی جانب سے اس کی مخالفت۔

Photo: INN

برطانوی حکومت کے نئے انسداد انتہا پسندی منصوبے نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ بیشتر لوگوں کا کہنا ہے کہ اس متنازع اقدام سے ’’غیر مناسب طور پر مسلم سماج کو نشانہ بنانے‘‘ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ حکمراں کنزرویٹو پارٹی پہلے ہی نسل پرستی کے الزامات کی زد میں ہے، یہ حکومتی اقدام جس کا اعلان اس ہفتے کے آخر میں متوقع ہے، برطانیہ میں پہلے ہی تشویش کا باعث ہے۔ لیولنگ اپ سیکریٹری مائیکل گو نے پارلیمانی استحقاق کو انفرادی گروپوں کا نام دینے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے جو ’’برطانوی جمہوریت کو کمزور کررہےہیں۔ ‘‘
وزیر اعظم کے دفتر نے پیر کو کہا کہ ’’یہ اس حقیقت کے جواب میں ہے کہ حالیہ مہینوں میں ہم نے انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں ناقابل قبول اضافہ دیکھا ہے، جو ہمارے معاشرے کو تقسیم کرنے اور ہمارے جمہوری اداروں کو ہائی جیک کرنے کے درپے ہیں۔ ‘‘
یہ مارچ کے اوائل میں ڈاؤننگ ا سٹریٹ میں وزیر اعظم رشی سونک کے خطاب میں خلل کے بعد آیا، جہاں انہوں نے برطانیہ میں ’’انتہا پسند سرگرمیوں میں اضافے‘‘ کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے ملک بھر میں فلسطین حامی مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ حال ہی میں بہت سے مواقع پر، ہماری سڑکوں کو ایک چھوٹی جماعت نے ہائی جیک کیا ہےجو ہماری اقدار کے مخالف ہیں اور ہماری جمہوری روایات کا کوئی احترام نہیں کرتے ہیں۔ 
غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے کیلئے گزشتہ سال۷؍ اکتوبر سے منعقد ہونے والی ریلیوں کو بیشتر لوگوں کی جانب سے پرامن قرار دینے کے باوجود اس وقت کی ہوم سیکریٹری سویلا بریورمین سمیت سیاستدانوں نے اسے ’’نفرت مارچ‘‘ کا نام دیا۔ مظاہرین کی بہت کم تعداد کے گرفتار ہونے کے باوجود سیاستدانوں کی طرف سے مارچ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 
اسلامو فوبیا میں اضافے کی اطلاعات کے درمیان، حکومت کا ’’انتہا پسندی‘‘ سے متعلق نیا منصوبہ انگلینڈ کے قد آور لیڈروں کی جانب سے بھی تنقید کی زد میں آیا ہے جنہوں نے متنبہ کیا کہ انتہا پسندی کی نئی تعریف نہ صرف نادانستہ طور پر آزادی اظہار بلکہ عبادت کے حق کو بھی خطرات سے دوچار کرتی ہے۔ 

ٹیل ماما کے مطابق، مسلم مخالف واقعات پر توجہ دینے والا ایک واچ ڈاگ۔ ۷؍ اکتوبر سے جب اسرائیل نے فلسطین کے غزہ پر وحشیانہ حملہ اور جنگ شروع کی تھی، برطانیہ میں اسلامو فوبک واقعات میں تین گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ 
کینٹربری کے آرچ بشپ جسٹن ویلبی اوار سٹیفن یارک کے آرچ بشپ کوٹریل نے منگل کو ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ جو نئی تعریف تجویز کی جا رہی ہے اس سے نہ صرف نادانستہ طور پر آزادی اظہار کو خطرہ ہے بلکہ عبادت اور پرامن احتجاج کے حق کو بھی خطرہ ہے۔ خصوصی طور پر اس سے غیر مناسب طور پر مسلم معاشرہ کو نشانہ بنانے کا خطرہ ہے، جو پہلے ہی نفرت اور بدسلوکی کی بڑھتی ہوئی سطح کا سامنا کر رہا ہے۔ 
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لیڈروں کو جمہوری اقداروں کی قدر کرنی چاہئے اور انہیں فروغ دینا چاہئے۔ ایسی پالیسیوں پر عمل کرنا چاہئے جو ہمیں متحد کریں، علاحدہ نہیں۔ ‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *