April 22, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/nyctheblog.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

لاس اینجلس میں ہوئے ۹۶؍ ویں آسکرز کی تقریب میں دنیا بھر کے مشہور اداکاروں نے اپنے لباس پر سرخ پن لگا کر غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی، تمام یرغمالوں کی رہائی اور غزہ میں انسانی امداد کی رسائی کو ممکن بنانے کا مطالبہ کیا۔ برطانوی ڈائریکٹر جوناتھن گلیزر نے اپنی آسکر تقریر میں غزہ میں اسرائیلی حملوں کو غیر انسانی سلوک قرار دیا۔

Actors wearing red pins during the Oscars. Image: X

آسکر کے دوران ریڈ پن لگائےہوئے اداکار۔ تصویر: ایکس

۹۶؍ ویں آسکر ایوارڈ کی تقریب کے دوران متعدد مشہور اداکاروں جیسے گریمی ایوارڈیافتہ بیلی آیلیش اور آسکرنامزد مارک فالو نے اپنے لباس پر ریڈ پن لگائے تھے جو محصور غزہ میں جنگ بندی کی علامت کو ظاہر کر رہے تھے۔ 
خیال رہے کہ ۵؍ماہ قبل اسرائیل نے حماس کے حملے کے بعد غزہ میں اپنی کارروائیاں شروع کی تھیں جس کے نتیجے میں اب تک ۳۰؍ ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق جبکہ ۷۰؍ ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ اس پن میں نارنجی رنگ کے ہاتھ کے درمیان سیاہ دل سرخ رنگ کے دائرے سے گھراہوا تھا۔ 
اس ضمن میں گروپ نے پریس ریلیز میں کہا کہ ’’یہ پن غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی، یرغمالوں کی رہائی اور خطے میں انسانی امداد کی رسائی کو ممکن بنانے کی اجتماعی حمایت کی علامت ہے۔‘‘
البتہ نیویارک ٹائمز نے نشاندہی کی کہ ٹونی شلہوب اور ایبون ماس بچرچ اسکرین ایکٹرس گلڈ ایوارڈس میں بھی یہ پن لگائےہوئے تھے۔
علاوہ ازیں ریڈ کارپیٹ کے سیزن کے دوران اسی مقصد کیلئے اداکاروں کے ساتھ مزید علامات بھی نظر آئیں۔۲۰۲۴ء گولڈن گلوب ایوارڈ کے دوران جے اسمتھ کیمرون نے زرد رنگ کی ربن پہنی ہوئی تھی جو حماس کی قید میں ۱۳۶؍ اسرائیلی یرغمالوں کی رہائی کی علامت تھی۔

اسرائیل اور حماس جنگ کے درمیان ہلاک ہونے والے غیر انسانی سلوک کے متاثرین تھے: جوناتھن گلیزر
برطانوی ڈائریکٹر جوناتھن گلیزر نے آسکر قبول کرنے کے بعد اپنی تقریر میں بھی غزہ کے حوالے سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی یہودیت اورہولوکاسٹ کو ایک ’’قبضے‘‘ کے ذریعے ہائی جیک کرنے کی تردید کرتے ہیں۔خیال رہے کہ ہولوکاسٹ کے متعلق ان کی فلم نے انٹرنیشنل فلم ایوارڈحاصل کیا ہے۔ گلیزر نے کہا کہ جو افراد اسرائیل اور حماس کی جنگ کے درمیان ہلاک ہوئے ہیں وہ غیر انسانی سلوک کے متاثرین تھے۔ یہ ایوارڈ قبول کرنا میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔جرمن زبان کی یہ فلم ۵؍آسکرز کیلئے منتخب ہوئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری فلم میں بتایا گیا ہے کہ جب غیر انسانی سلوک اپنی بدترین حد تک پہنچ جاتا ہےتو وہ نہ صرف ہمارے حال بلکہ مستقبل پر بھی بری طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ برطانوی ڈائریکٹر، جویہودی ہیں، نے مزید کہا کہ اس وقت، ہم یہاں ایسے افراد کے طورپر کھڑے ہیں، جو اپنی یہودیت اور ہولوکاسٹ کو قبضے کے ذریعے ہائی جیک کئے جانے کی تردید کرتے ہیں جس کے سبب بہت سے بے گناہ لوگوں کیلئے جنگ کا باعث بنا۔ چاہے وہ ۷؍اکتوبر کے حملے میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی ہوں یا غزہ میں جاری جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے فلسطینی، یہ سب کے ساتھ غیر انسانی سلوک ہے۔ ہم اس کے خلاف مزاحمت کیسے کریں؟واضح رہے کہ فلسطینی اسرائیل کے قبضے میں ۱۹۶۷ء سے زندگی گزار رہے ہیں۔ اس سے قبل برطانوی ڈائریکٹر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ فلم انسانی قدروں کے سیاہ پہلوؤں کااحاطہ کرتی ہے جو آج کے حالات پر صادق آتا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ اس فلم میں وہی ہے جو ہم ایک دوسرے کے ساتھ بطور انسان کرتے ہیں۔ہم دوسروں کو خود سے کم تر اور مختلف سمجھتے ہیں۔  کسی نہ کسی طرح اور کسی نہ کسی قدم پر اور یہی چیزیں ظلم کا راستہ اپناتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *