April 22, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/nyctheblog.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے اسرائیل پرغزہ میںفاقہ کشی کی صورتحال پیدا کرنے کا الزام لگایا، بروسلز میں منعقدہ ایک کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ جنگ سے پہلے غزہ دنیا کا سب سے بڑا کھلا قید خانہ تھا لیکن اب یہ سب سے بڑا کھلا قبرستان بن چکا ہے جہاں وہ انسانی قوانین بھی دفن ہوچکے ہیں جو بہت سوں کیلئے بڑے اہمیت کے حامل ہیں۔

Whatever aid comes to Gaza, it takes some time to get it. Photo: Agency

غزہ میں جو بھی امداد آتی ہیں، انہیں حاصل کرنے کیلئے کچھ ایسا عالم ہوتا ہے۔ تصویر: ایجنسی

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ غزہ پٹی میں قحط پیدا کر رہا ہے اور بھوک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔  بوریل نے بروسلز میں غزہ کیلئے انسانی امداد کے بارے میں ایک کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ’’ غزہ میں ہم اب قحط کے دہانے پر نہیں ہیں بلکہ قحط میں مبتلا ہوچکے ہیں اور ہزاروں افراد قحط کاشکار ہیں۔ یہ ناقابل قبول ہے۔ قحط کوجنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور اسرائیلی جنگ قحط کا باعث بن رہی ہے۔‘‘ قبل ازیں اتوار کو یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے کہا تھا کہ غزہ کو قحط کا سامنا ہے جو ناقابل قبول ہے۔ قاہرہ میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ اسٹرٹیجک پارٹنرشپ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ غزہ کو قحط کا سامنا ہے اور یہ صورتحال ناقابل قبول ہے۔ اب فوری جنگ بندی کے معاہدہ تک پہنچنا ضروری ہے تاکہ قیدیوں کی رہائی ممکن ہو اور مزید انسانی امداد غزہ تک پہنچ سکے۔ 
غزہ کھلا قبرستان بن چکا ہے 
 یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کےسربراہ جوزپ بوریل نے غزہ کے حالات پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہ جنگ سےپہلے غزہ دنیا کا سب سے بڑا کھلا قید خانہ تھا لیکن اب یہ سب سے بڑا کھلا قبرستان بن چکا ہے۔ یورپی یونین کے وزراء کی ایک میٹنگ میں انہوں نے کہا کہ’’ غزہ ہزاروں افراد کا قبرستان بن چکا ہے اور انسانی حقوق سے متعلق وہ قو انین اور اصول بھی وہاں دفن ہو چکے ہیں جوبہت سوں کیلئے بڑے اہمیت کے حامل ہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے سے روک کر اسرائیل غزہ میں قحط سالی کا باعث بن رہا ہے۔ 
جنگ بندی کیلئے قطر میں دوبارہ مذاکرات 
 اسرائیل اور حماس کے مذاکرات کار ۶؍ ہفتے کی جنگ بندی کے معاہدہ کے حصول کیلئے رواں ہفتے دوبارہ کوشش کرنے کیلئے قطر پہنچ چکے ہیں۔ مذاکرات کا تازہ ترین راؤنڈ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جبکہ اسرائیل نے غزہ کے جنوبی شہر رفح میں زمینی کارروائی کی دھمکی دی ہے جب کہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے غزہ میں اسرائیل کے `طرزِ جنگ پر تشویش کا اظہار کیا ہے اورغزہ میں امداد کی بلا رکاوٹ فر اہمی پر زور دیاہے۔ `رائٹرز کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا ہے کہ اسرائیل کے خفیہ ادارے موساد کے سربراہ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے قطر اور مصر کے ثالثوں سے گفتگو کی ہے۔ حماس کے ساتھ ثالثی مذاکرات کا مقصد غزہ میں ۶؍ ہفتے کی جنگ بندی اور حماس کی جانب سے ۴۰؍یرغمالوں کی رہائی کو یقینی بناناہے۔ واضح رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کیلئے کی جانے والی حالیہ تمام کوششیں بے سود رہی ہیں۔ 
اسرائیل مشاورت کے بغیر رفح پر حملہ نہیں کریگا : امریکہ 
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے اسرائیل کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں لیکن غزہ جنگ کے تعلق سے دونوں میں اختلافات ہیں، اس کے باوجود اتنا تو ہےکہ تل ابیب ہم سے مشاورت سے قبل رفح میں کوئی آپریشن شروع نہیں کرے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کئےگئے بیان میں کہا گیا ہےکہ رفح میں کسی بھی طرح کی کارروائی میں حماس کو نشانہ بنا یاجانا چاہئے جبکہ شہریوں کی حفاظت کی جانی چاہئے اور غزہ کیلئے مزید امداد کی ترسیل کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ وہائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے غزہ کے جنوب میں رفح میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کرنے کی ضرورت پر واشنگٹن کو قائل کرنے کیلئے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کے اگلے قدم کا انکشاف کیا۔ سلیوان نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے پیر کے روز امریکی صدر جو بائیڈن کو فون پر مطلع کیا کہ وہ رفح میں ممکنہ فوجی کارروائی پر بات چیت کیلئے ایک مشترکہ انٹر ایجنسی ٹیم واشنگٹن بھیجیں گے۔ واضح رہےکہ جو بائیڈن نے اسرائیل کورفح پر حملے سے بازرہنے کی ہدایت دی ہے لیکن یاہو اس کیلئے پرتول رہے ہیں۔ 

اُنروا کے سربراہ کو غزہ جانے سے روک دیاگیا 
اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزیں ایجنسی یو این آر ڈبلیو اے(انروا) اور مصری وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام نے پیرکو ادارے کے سربراہ کو غزہ میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے اسے ایک ایسا اقدام قرار دیاجس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔فلسطینی پناہ گزیں ایجنسی کے سربراہ فلپ لازارینی نے قاہرہ میں مصری وزیر خارجہ سامح شکری کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ میرا پیر کو رفح جانے کا ارادہ تھالیکن مجھے ایک گھنٹہ پہلے اطلاع ملی ہے کہ مجھے رفح میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔‘‘ سامح شکری نے لازرینی سے کہا’’اسرائیلی حکومت نے آپ کوجانے کی اجازت نہیں دی جو اس اعلیٰ  نمائندے کے لیے ایک ایسا اقدام ہے جس کی اس سے قبل کوئی مثال موجود نہیں ہے۔‘‘واضح رہےکہ انروا غزہ میں امداد فراہم کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *