April 22, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/nyctheblog.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
 بڑے ٹیکس دہندگان کو بلیو پاسپورٹ اور اعزازی سفیر کا درجہ دینےکا اعلان

وزیراعظم  شہباز شریف نے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے پاکستانیوں کو قومی ہیروز قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کیلئے بلیو پاسپورٹ اور پاکستان آنرز کارڈ کا اجراء کیا جائے گا اور بڑے ٹیکس دہندگان اور برآمد کنندگان کو ملک کے اعزازی سفیر کا درجہ دیا جائے گا۔کلیدی ٹیکس گزار افراد، کمپنیوں اور برآمدکنندگان کیلئے ایکسی لینس ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا  کہ اس تقریب کے انعقاد کا واحد مقصد پاکستان کے ان معماروں اور قومی ہیروز جنہوں نے اپنی محنت کی کمائی سے ٹیکس ادا کیا اور شبانہ روز کاوشوں سے پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیلئے خدمات سرانجام دیں، اپنی قابلیت سے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزر میں اپنا لوہا منوایا. بزنس انٹرپرائزر میں نمایاں کارکردگی کی حامل خواتین اور غیر روایتی برآمدات میں کردار ادا کرنے والوں اور برآمدات اور ٹیکس بڑھانے والوں کو قوم کے سامنے ایوارڈ دینا تھا.ان کی خدمات کا اعتراف تھا۔شہبازشریف نے کہاکہ پاکستان کے معاشی حالات اور چیلنجز کو حل کرنا ہے تو پرائیویٹ اور سرکاری شعبہ کو ملکر آگے بڑھنا ہے، سرخ فیتے اور التواء کو ختم کرنا ہے، کاروباری طبقہ کیلئے ایسا سازگار ماحول بنانا ہے جس کے ذریعے یہ اپنے شعبے میں محنت کر کے پاکستان کو معاشی ترقی کی دوڑ میں تیزی سے پیچھے رہ جانے والے فاصلوں کو طے کرنا ہے، یہ تب ہی ممکن ہے جب نجی شعبہ کو مکمل معاونت کریں۔شہباز شریف  نے مزید کہاکہ کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں ہے بلکہ حکومت کا کام سازگار ماحول اور سہولیات فراہم کرنا ہے. حکومت کا کام مشاورتی عمل سے پالیسی سازی اور اس پر عملدرآمد کرنا ہے .جس سے پاکستان آنے والے سالوں میں ترقی کی دوڑ میں دنیا کی دیگر اقوام میں شامل ہو۔وزیراعظم نے تقریب میں شریک مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایوارڈ کی وصولی پر انہیں مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہاکہ مہنگے تیل درآمد کر کے بجلی کی پیداوار کو بتدریج ختم کرنا ہوگا. ہمارے پاس موسم سرما اور گرما دونوں میں سرپلس بجلی ہے، اپنی پیداوار بڑھانے کیلئے اسے صنعت کو دینا ہوگا، اپنے لاسز کو کم کرنا ہوگا۔شہبازشریف نے کہاکہ ایف بی آر کی تشکیل نو کرنی ہے، اپریل میں اس حوالہ سے کنسلٹنٹ تعینات ہو جائے گا. اسے مکمل طور پر ڈیجیٹائز کرنے کیلئے وقت درکار ہے. رواں سال محصولات کی وصولی 9 کھرب روپے ہے جو مجموعی جی ڈی پی کے 9 فیصد تک ہے جو کہ خطے میں سب سے کم ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *