April 22, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/nyctheblog.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
برطانوی فوج میں’داڑھی’ سے متعلق 100 سالہ پابندی ختم

برطانوی فوج میں 100 سال بعد اب ایک ایسی پابندی کو ختم کر دیا گیا ہے، جس کے باعث کئی فوجی سکھ کا سانس لے سکیں گے۔برطانوی فوجی جوان اور افسران اب باقاعدہ اپنی داڑھی رکھ سکیں گے اور اسے بڑھا بھی سکیں گے، برطانوی فوج میں 100 سال سے زائد عرصے سے لگی پابندی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق کنگ چارلس کی منظوری کے بعد ملٹری چیف نے 100 سال سے زائد عرصے کی اس پابندی کا خاتمہ کیا ہے۔ہیڈ آف آرمی جنرل سر پیٹرک سینڈرز کی جانب سے فیصلہ اُس وقت کیا گیا تھا جب فوج میں ہونے والے سروے میں اکثریتی جوانوں نے داڑھی رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔فوج کے انتہائی سینئر نان کمشنڈ افسر نے اعلان کیا کہ پابندی کے خاتمے کا اطلاق بہت جلد ہوگا۔دوسری جانب وارانٹ افسر کلاس 1 پال کارنے نے ٹروپس سے گفتگو کے دوران داڑھی رکھنے کو صاف صفائی سے مشروط کر دیا ہے۔ افسر کے مطابق داڑھی کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کی صاف صفائی کا دھیان ضروری رکھنا ہوگا۔نئی پالیسی کے مطابق ایک مکمل سیٹ داڑھی کی ہی اجازت ہوگی، جس کی لمبائی 2 اعشایہ 5 ملی میٹر ہو سکتی ہے یعنی گریڈ 1 اور گریڈ 8 جو کہ 25 اعشاریہ 5 ملی میٹر یا 1 انچ بنتی ہے۔تاہم چہرے کے رخسار کے بال اور گردن پر موجود داڑھی کے بال صاف کرنا ضروری ہوگا، جبکہ اس حوالے سے کوئی دیگر رنگ کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔واضح رہے 19 ویں صدی میں برطانوی فوجیوں پر داڑھی رکھنے پر پابندی عائد کی گئی تھی، اگرچہ اس حوالے سے ڈیبیٹ اور تنقید ہوتی رہی تاہم پالیسی تبدیل نہ کی جا سکی تھی۔دوسری جانب رائل نیوی نے کمانڈنگ افسر کی سہمتی سے داڑھی اور مونچھیں رکھنے کی اجازت کئی سال پہلے دے دی گئی تھی۔دی ٹیلی گراف سے دوران گفتگو دفاعی ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر کسی قسم کے کیمیائی خطرے سے دوچار ہوئے تو داڑھی منڈوانی پڑے گی۔جبکہ فوج میں مونچھیں کئی فوجیوں کو رکھنے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم اس سے قبل داڑھی محض چند ملٹری پوزیشنز کے افسران کو ہی رکھنے کی اجازت تھی، جن میں پیونئیر سرجینٹس، ڈر میجرز، پائپ میجرز، بگل میجرز اور گوٹ میجرز شامل ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *