May 21, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/nyctheblog.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
قانون کے مطابق فیصلے کئے، ہمیں سیاسی جماعت سے منسوب کیا گیا: چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

پشاور (بیورو رپورٹ) چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ کہ کوئی سائل سمجھتا ہے کہ داد رسی قانون کے مطابق نہیں ہوئی تو قیامت کے دن حاضر ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے اعزاز میں  فل کورٹ ریفرنس سے خطاب  میں کیا۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ 31 سال کے عرصے میں 15ہزار فیصلے دیے جن میں صرف 509 فیصلے سپریم کورٹ میں چیلنج ہوئے۔ اس میں بھی 279 کو عدالت عدلیہ نے برقرار رکھا۔ ہم نے قانون کے مطابق فیصلے کیے مگر ہمیں سیاسی جماعت سے منسوب کیا گیا۔ انکوائری میں اے پی ایس فیملیز اور دیگر گواہوں کے ساتھ فوجی افسروں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے۔ چیف جسٹس محمد ابراہیم نے سینئر جسٹس اشتیاق ابراہیم کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا جو کہ پشاور ہائیکورٹ کے نامزد چیف جسٹس ہیں۔ چیف جسٹس محمد ابراہیم خان نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرتی رہے گی۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس محمد ابراہیم خان 14 اپریل کو ریٹائر ہو جائیں گے۔ دوسری جانب  پشاور ہائی کورٹ نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کو 2023ء کی رپورٹ دوبارہ شائع کرنے کا حکم دے دیا۔ پاکستان میں عدلیہ کو تیسرے کرپٹ ادارے کے طور پر شائع کرنے کے معاملے پر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کو 2023ء کی سالانہ رپورٹ دوبارہ شائع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے 19 فروری کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا، جس میں عدالت نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کو 2023 کی سالانہ رپورٹ دوبارہ شائع کرنے کا حکم سنایا ہے۔ عدالت نے ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کو رپورٹ میں غیر موجود ڈیٹا شامل کر کے حقائق پر مبنی رپورٹ شائع کرنے اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کو 24 اپریل تک رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ کے پاس جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ سروے کے دوران مسترد ہونے والے فارم کی مجموعی تعداد کو رپورٹ میں شائع کیا جائے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ میں تمام عوامی رائے کے تناسب کو واضح طور پر شائع کرے، پڑھنے والے کے لیے کوئی ابہام نہ چھوڑا جائے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کو نیشنل کرپشن پر سروے 2023 کی رپورٹ درست کرنے کا اقدام خود اٹھانا چاہیے تھا۔ فیصلے سے ایسا تاثر نہ لیا جائے کہ کوئی آزادی رائے کے اظہار پر پابندی لگائی گئی ہے۔ عدالت، مؤثر، تحقیقاتی، درست ریسرچ کی حواصلہ افزائی کرتی ہے جو اداروں اور عوام کے لیے مفید ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *